فاضل کا بلاگ

نیا زمانہ نئی صبح و شام پیدا کر

2010/11/10

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پر سوز ۔۔۔۔۔ یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کچھ لوگ ہوتے ہیں کہ جب اپنی قوم میں کسی خامی یا پستی کا احساس کرتے ہیں، قومیت بدلنے کی جگہ، قوم کو بدلنے کہ کوشش کرتے ہیں۔ اپنی زندگی میں ہزاروں جتن کرتے ہیں تاکہ ان کی قوم صحیح راستے پر آجائے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جب اپنا کام پورا کرتے ہیں اور دنیا ان کو پہچانتی ہے، تب بجائے اس کہ کہ یہ کسی قوم میں شامل ہونے کی کوشش کریں، قومیں ان کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہر قوم یہ کہتی ہے کہ یہ تو ہم میں سے تھے۔
کچھ اسی طرح کی ایک شخصیت آج سے ۱۳۳ سال پہلے، ۹ نومبر کو پیدا ہوئی۔ والدین نے تو محمد اقبال نام رکھا۔ لیکن دنیا نے نہ جانے کتنے القاب سے نوازا، علامہ، ڈاکٹر، مولانا، سر، حکیم الامت، شاعر مشرق، فیلسوف شرق ۔۔۔ اس کے بوجود خود یہ کہہ گئے:
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
آج تک قومیں یہ کہہ رہی ہیں، اقبال ہمارا تھا۔ پاکستان، ہندوستان، انگلستان، ایران اور نہ جانے کون کون اقبال کو اپنا مانتے ہیں، کوئی پیدائش کی وجہ سے تو کوئی زبان کی وجہ سے اور کوئی سلطنت کی وجہ سے۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ واقعا اقبال کس قوم کا ہے۔ کہنے کو تو ہم یہی کہتے ہیں کہ اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا، تو پاکستانی ہے۔ لیکن کیا حقیقت میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہی پاکستان ہے جو اقبال نے سوچا تھا۔ کیا صرف یہ کہنے سے کہ پاکستانی تھا، مزار پر پھول چڑھانے سے، پاکستان کا پرچم لگانے سے۔ اقبال کو پاکستانی شہریت دی جاسکتی ہے؟
اقبال ہمارا ہے۔ یہ ہم اسی وقت کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم اقبال کو اپنے کردار سے پاکستانی بنائیں۔ اگر اقبال پاکستانی تھا۔ تو ہر پاکستانی کو ایک اقبال ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہر پاکستانی علم کی اس چوٹی پر پہنچے کہ جس پر اقبال تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ اونچائی پر، بقول حضرت اقبال، وہاں تک کہ، "خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"۔ تب ہم فخر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقبال پاکستانی ہے۔ ورنہ خدا نخواستہ ہمیں وہ دن بھی دیکھنا پڑے کہ جب اقبال جیسی شخصیتوں کو ہم سے دوسری قومیں چھین لیں گی۔ خدا وہ دن نہ لائے۔ آمین




خیر یہ تو بس ایسے ہی لکھ دیا۔ اصل میں تو علامہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے، ان کی ایک غزل پیش کرنا چاہتا تھا۔

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تو نہین جہاں کے لیے

یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے
وہ کار و خس کے لیے ہے، یہ نیستاں کے لیے

مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ چمن
نہ سیر گل کے لیے ہے، نہ آشیاں کے لیے

رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک
ترا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لیے

نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

ذرا سی بات تھی، اندیشہ عجم نے اسے
بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لیے

مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرئیل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لیے


آئیں مل کر اقبال کو حقیقتا پاکستانی بنائیں
ان شاء اللہ
نو، نومبر، دوہزار دس عیسوی

2010/08/09

قرآن کریم گیلری، قومی عجائب گھر، کراچی {ہفتہ کتب خانہ}۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم



آج سے تقریبا چھ سال پہلے، میں پہلی مرتبہ قومی عجائب گھر پاکستان گیا۔ یہ عجائب گھر، کراچی میں، ڈاکٹرضیاءالدین احمد روڈ پر واقع ہے۔ مجھے یہ عجائب گھر دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ کیونکہ جو میرے ذہن میں تصویر تھی قومی عجائب گھر کی، وہ اسے دیکھ کر اک دم چکناچور ہوگئی۔ صفائی صرف برائے نام، کولنگ سسٹم ندارد، حد تو یہ ہے کہ جب بارش ہوئی، عجائب گھر کی چھتوں کے نیچے بھی پانی برسنے لگا۔ خیر میں تو کوئی اور بات کرنا چاہ رہا تھا۔

کل چھ سال کے بعد دوبارہ اسی جگہ گیا۔ کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی، سب کچھ اسی طرح تھا۔ طالب علم ہونے کی وجہ سے پانچ روپے والا ٹکٹ لیا۔ اندر گئے۔ سب کچھ اسی طرح تھا۔ تحریک آزادی کی گیلری بند تھی۔ باقی سب ویسے ہی تھیں۔ یہاں تک کہ ہم قرآن کریم گیلری کے دروازے پر پہنچے۔ کنڈی لگی ہوئی تھی۔ ہم سمجھے کہ یہ بھی بند ہے۔ بہت افسوس ہوا کہ جس چیز کی وجہ سے آئے تھے، وہی بند ہے۔ لیکن وہاں موجود ایک محافظ نے ہم سے کھا کنڈی کھول کے اندر چلے جائیں۔ اندر گئے تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی، تعجب بھی بہت ہوا کہ پاکستان میں کیا یہ بھی ہوسکتا ہے؟

چھ سال پھلے جب ہم یہاں آئے تھے، منظر کچھ یوں تھا۔ ہمارے پسینے چھوٹ رہے تھے گرمی سے۔ شیشے کے پیچھے قرآن کریم کے قلمی نسخے کھلے ہوئے ڈسپلے پہ رکھے تھے۔ اب سوچیں جس گرمی میں ہمارا حال برا ہو گیا تھا، اس میں ان قلمی نسخوں کا کیا حال ہوگا۔ اس طرح کی نگہداشت کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند سال پہلے یہاں دیمکوں نے حملہ کردیا۔ اور الحمدللہ منتظمین کو اس بات کا خیال آیا کہ گیلری بند کی جائے اور یہاں کچھ تعمیرات کریں۔ گیلری شاید دو تین سال تک بند رہی، اور تعمیراتی کام ہوتا رہا۔ میری معلومات کے مطابق مئی دوہزار دس میں گیلری دوبارہ کھول دی گئی۔

اب اس کو دیمک کی برکت کھا جائے یا کچھ اور، مجھے نہیں معلوم لیکن اتنا بتا سکتا ہوں کہ جو ہوا بھہت اچھا ہوا۔

ہم گیلری میں داخل ہوئے۔ تو ایسا محسوس ہوا، بقول ہمارے عدیل بھائی کے، جیسے ہم کسی اور جگہ (ملک) آگئے ہیں۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ اسی قومی عجائب گھر کا حصہ ہے جہاں پانچ روپے کا ٹکٹ خرید کر آئے ہیں۔

داخل ہوتے ہی پتا چلا کہ بہت عمدہ کولنگ سسٹم لگا ہوا ہے۔ چند لوگوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے، جنہوں نے اس تعمیراتی کام میں حصہ لیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ میرے پاس اس وقت قلم کاغذ نہیں تھا، اور تصویر کھینچنا منع ہے۔ اس وجہ سے وہ نام لکھ نہ سکا۔ اب ایک دفعہ اور جانا پڑے گا۔ اندر بہت عمدہ، سادہ اور خوبصورت سلھیٹی رنگ کی دیواریں ہیں، جن میں شیشے کے سادہ مگر خوبصورف ڈسپلے بنائے گئے ہیں، ڈسپلے کے اندر وینٹیلیشن کے لیے خاص جگہ رکھی ہے، اور لال رنگ کے مخمل پر، قرآن کریم کے قلمی نسخے کھلے رکھے ہیں، ان کی تفصیل ان کے نیچے لکھی ہوئی ہے۔

یہاں ۵۲ قلمی نسخے منظر عام پر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ قومی عجائب گھر میں کل ۳۰۰ قرآن کریم کے قلمی نسخے موجود ہیں۔ اس میں سب سے پرانا نسخہ جو مجھے نظر آیا وہ پانچویں صدی ہجری کا ہے۔ یہ سارے نسخے اس وقت تو بہت اچھی حالت میں رکھے گئے ہیں، امید ہے ہمیشہ اسی طرح ان کی دیکھ بھال ہوتی رہے۔

میری نظر میں جو شخص بھی کراچی آئے، یہ عجائب گھر اور خاص طور پہ یہ گیلری ضرور دیکھے۔

امید ہے کہ جس طرح یہ گیلری تیار کی گئی ہے، اسی طرح پورا عجائب گھر بہتر بنایا جائے۔ اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ان سب چیزوں کی اچھی طرح مستقل دیکھ بھال ہوتی رہے، ایسا نہ ہو کہ ایک دفعہ بنا کر چھوڑ دیا جائے، بلکہ مستقل اس پر نظر رکھی جائے اور اسے خرابی سے بچایا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوا، تو یہ ساری محنت اور سارا خرچہ، سب بے کار رہے گا اور بہت جلد ضائع ہو جائے گا۔

اس عجائب گھر میں، ایک کتاب خانہ بھی ہے، جو میں نہیں دیکھ سکا کیونکہ میں ہفتہ کے دن گیا تھا اور کتابخانہ بند تھا۔ میری کوشش ہے کہ ایک دن کتابخانہ دیکھنے بھی وہاں جاوں۔ ان شاء اللہ۔



 (Pakistan National Museum) نوٹ: قومی عجائب گھر = پاکستان نیشنل میوزیم



والسلام

سید محمد نقوی فاضل

۸۔اگست۔۲۰۱۰

2010/07/19

ہمارا جانا، پانچ سال بعد پاکستان

بسم اللہ الرحمن الحیم

ہر کسی کا ایک گھر ہوتا ہے۔ چاہے دنیا کے ہر شہر میں لاکھوں مکان ہوں، لیکن گھر ایک ہی ہوتا ہے۔
گھر وہ ہوتا ہے کہ جب انسان وہاں ہو، اسے سکون ملے، چاہے کتنی مشکلیں پڑیں۔ اپنائیت محسوس ہو، چاہے کتنا ہی تنہا ہو۔ سب لوگ اپنے لگیں، چاہے جتنے بھی انجان ہوں۔ جب وہاں کوئی مصیبت آئے، انسان جہاں بھی ہو اس کا دل دکھنے لگے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے، کہ جب گھر سے دور ہو، اسے ایک شدید کمی، ایک درد کا احساح ہو، جسے عام طور سے غربت کا احساح کہتے ہیں۔
ہر درد کی طرح، غربت کو بھی وہی سمجھ سکتا ہے جو غربت میں رہا ہو۔
لیکن کوئی ایسی چیز دنیا میں نہیں ہے، جس میں اچھائی، خوشی یا کوئی بھی اچھا پہلو نہ ہو۔ اگر کوئی ایسی چیز ہے بھی تو بہت کم ہی ہوگی۔ کیونکہ ان اللہ جمیل و یحب الجمال۔
یہ سب باتین ایک طرف، اور کئی سال غربت جھیلنے کے بعد، گھر جانے کی خوشی ایک طرف۔ اس خوشی کا نقشہ کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا۔ اگر یہ قدرت ہوتی تو شاید ایک بچے کی تصویر بناتا جو، اپنی چھوٹی سی دنیا میں مگن، ایک چاکلیٹ پانے کی خوشی میں ناچ رہا ہے۔ میرا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے، فرق اتنا ہے کہ اس عمر میں اگر یہ حرکت کر ڈالی، تو شاید مجھے، پاگل خانہ بھیج دیا جائے۔ بچپنے کا بھی کیا خوب زمانہ ہوتا ہے، انسان کھل کے اپنے خالص احساسات کا اظہار کرتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ خلوص نقابوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان اپنی خوشی کا اظہار بھی کھل کر نہیں کرسکتا۔
خیر اب میں لگ بھگ پانچ سال کے بعد، دوبارہ اپنے گھر، پاکستان، جا رہا ہوں۔ خوشی کا عالم قابل بیاں نہیں ہے۔ پاکستان پہنچنے میں چار دن رہتے ہیں۔
مجھے یہ فکر ہے کہ پانچ سال پہلے میرا گھر کس حال میں تھا، اور آج کس حال میں ہے۔ مہنگائی، بدامنی، بجلی کی چھٹیاں اور نہ جانے کتنی مشکلیں بڑھ گئی ہیں، یہ سب معلوم ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے جانا ہے۔ گھر، گھر ہوتا ہے۔ بقول مرحوم فراز کے:
فراز سنگ ملامت سے داغ داغ سہی
ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا
اس فرق کے ساتھ، کہ ہمارا پاکستان خراب نہ کبھی تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہو گا، ان شاء اللہ۔ ہاں خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جو ان شاء اللہ، ناکام رہے گی۔
اب ملیں گے پاکستان میں ان شاء اللہ

2010/06/26

صاحب معراج کی گودی میں ہیں حیدر

بسم اللہ الرحمن الرحیم


یہ غل کیسا ہے، اور اتنا سہانا کیوں ہے یہ منظر؟
یہ فواروں کے ہاتھوں کیوں لٹائے ہیں حسیں گوہر؟
زمیں سے آسماں تک کیوں چڑھی جاتی ہیں یہ بیلیں؟
میں سمجھا، صاحب معراج کی گودی میں ہیں حیدر

از: علامہ سید مرتضی حسین صدرالافاضل (فاضل لکھنوی)۔

یوم ولادت امیرالمومنین امام علی بن ابیطالب ع
۱۴۳۱

2010/05/27

تہران یونیورسٹی میں اردو



بسم اللہ الرحمن الرحیم


دانشگاہ تہران، ایران کی سب سے پہلی یونیورسٹی ہے۔ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس میں اردو کا شعبہ بھی ہے۔  اس وقت اس بارے میں معلوم ہوا، جب اردو محفل میں، یونس عارف صاحب سے آشنائی ہوئی۔ یونس عارف صاحب، ہمدان کے رہنے والے ہیں، اور علامہ اقبال سے متاثر ہو کر، اردو ادب میں بیچلرز کررہے ہیں۔ اردو محفل کی برکت سے مجھے تہران یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ جانے کا موقع ملا، جس کی روداد یہاں لکھ رہا ہوں۔
میں اپنے دوستوں کے ساتھ، ایک کام کے سلسلے میں، تہران گیا تھا، تو سوچا کہ کیوں نہ تہران یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کی بھی زیارت کر لی جائے۔ چنانچہ عارف صاحب کو فون کر کے، میں اور میرے دوست سید یاسر عباس شمسی، دانشکدہ تربیت بدنی دانشگاہ تہران (Faculty of Physical Education and Sport Sciences, University of Tehran) کی جانب روانہ ہوئے۔ یہ فیکلٹی بہت بڑے رقبے پر ہے، اور اصل یونیورسٹی سے دور ہے۔ اسی کے ساتھ دانشکدہ زبان ہائے خارجی (Faculty of Foreign Languages) اور دانشکدہ مطالعات جہانی (Faculty of World Studies) کی عمارتیں قائم ہیں۔ یہ دونوں فیکلٹیز آمنے سامنے ہیں۔
دانشکدہ مطالعات جہانی کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا۔ کیونکہ نام تو 'جہانی' ہے، اور کام بھی دنیا بھر کی اقوام کا مطالعہ ہے، لیکن دروازہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ ایران کی تاریخ سے متعلق ہے۔ کیونکہ دروازہ قدیم ایرانی سلطنت، ہخامنشیوں کے زمانے کی بناوٹ کا نمونہ تھا۔ میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ ان دونوں چیزوں میں کیا تناسب ہے۔ یہ دروازہ تخت جمشید (Perspolis) کے دروازوں کی طرح بنایا گیا ہے۔
مجھے اپنا شیراز کا سفر یاد آیا۔ تخت جمشید میں داخل ہوتے ہی، ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا، کہ یہ دروازے ایک زمانے میں بہت خوبسورت اور عالیشان ہوا کرتے تھے۔ اس زمانے میں جب مختلف ملکوں اور قوموں کے نمائندے، ایران کے بادشاہ سے ملنے، یا ہدایا اور خراج پیش کرنے آتے، ان دروازوں سے داخل ہوتے تھے۔ اور سلطنت ایران کی قدرت، عظمت اور جلالت دیکھ کر مرعوب ہوجاتے تھے۔ وہاں دروازے سے پہلے، اس زمانے کی تمام اقوام کے نمایندوں کی تصویریں پتھر پر منقوش تھیں، ان سب کو پادشاہ کے سامنے دست بستہ اور ہدیہ پیش کرتے ہوئے دکھایا تھا۔ تاریخ کا بیان ہے کہ ایک شخص تھا، جو یہاں آیا، اور مرعوب تو نہیں ہوا، لیکن اس عظمت کو مرعوب کرکے، نظر آتش کر گیا۔ اس کا نام اسکندر اعظم بتایا گیا ہے۔
میں بھی اپنے آپ کو ایک قوم کا نمائندہ محسوس کرتے ہوئے بادشاہ ایران کے ویران محل میں داخل ہوا۔ میرے ایرانی دوست نے مجھ سے کھا۔ دیکھ رہے ہو ایران کی عظمت۔ میں نے کہا، ہم تو اس سے مرعوب نہ ہوئے، اور نہ کوئی عظمت نظر آرہی ہے، ہاں ایک بات ہے، مظلوم کے خون اور اور آہ کی قدرت صاف نمایاں ہے۔ کہ اتنی بڑی اور قدرتمند سلطنت، لمحے بھر میں جل کر راکھ ہوگئی۔ اگر بادشاہ دوسروں کو مرعوب کرنے کی جگہ، عوام کا خیال رکھتا، اور ان کی فکر کرتا، تو یہی عوام اپنی قدرت سے اسکندر جیسے فاتح کو بھی اپنے بادشاہ کے سامنے سر اٹھانے نہ دیتی۔ لیکن افسوس کہ حکمران، قدرت کے نشے میں تاریخ کو بھول جاتے ہیں۔ اور تاریخ تکرار ہو تی رہتی ہے۔
اب آپ خود ہی سوچیں کہ فیکلٹی آف ورلڈ اسٹڈیز کے لیے ایسا دروازہ کیوں منتخب کیا گیا ہے۔ کیا کسی کو مرعوب کرنا ہے؟ یا تاریخ کو دہرانے کا موقع فراہم کرنا ہے؟
خیر، ہم دانشکدہ زبان ہائے خارجی میں داخل ہوئے، اور عارف صاحب کے ساتھ ان کی کلاس میں جا بیٹھے۔ ڈاکٹر بیات لیکچر دے رہے تھے۔ موضوع، غالب کے شعری ادوار، تھا۔ لیکچر اردو میں دے رہے تھے۔ ڈاکٹر بیات صاحب نے دو یا تین برس پہلے، پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہے۔ روانی سے فارسی لہجے میں اردو بولتے ہیں۔ ان کی چند کتابیں اور تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ہماری عزت افزائی فرمائی اور کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی۔ کلاس میں ہم دونوں کے علاوہ تقریبا تیرہ طالب علم تھے۔ جن میں سے صرف دو لڑکے تھے۔
کلاس کے بعد ہم کتابخانہ دیکھنے گئے۔ یہاں کتابخانے میں داخلہ منع ہے۔ اگر کسی کو کوئی کتاب پڑھنی ہے، تو فہرست میں سے اس کا نمبر بتا کر کتاب حاصل کرسکتا ہے۔ عارف صاحب نے کتابخانہ دار سے بات کی اور انہوں نے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی۔ کتابخانے میں مختلف زبانون میں کتابیں موجود ہیں۔ اردو شعبہ تقریبا اٹھارہ سال پہلے یہاں شروع  ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، میرے اندازے سے کم اردو کتابیں یہاں موجود ہیں۔ لیکن کتابیں اچھی اور مفید ہیں۔
مختصر یہ کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہماری زبان ایران میں بھی پڑھائی جارہی ہے۔ اور اس کے شوقین بھی یہاں موجود ہیں۔ امید ہے ہماری زبان مزید مقبول ہو اور ترقی کرے۔

فاضل
۲۷ مئی ۲۰۱۰

2010/04/02

عشق کا بلاوا۔۔۔۔۔۲

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ڈیڑھ دو گھنٹے حرم میں کیسے گذرے، سورج کب نکلا، کچھ نہیں معلوم۔ زیارت کرکے حرم سے باہر نکلے۔ باب القبلہ کے سامنے، شارع الرسول ص میں پہنچے۔
اب آپ یہ بتائیں ، سب سے اچھا، مزیدار، اعلی، شاندار اور بہترین ناشتا کہاں کھایا ہے۔ شاید کسی بڑے ہوٹل مثلا برج العرب میں کھایا ہو، یا اٹلی میں، یا نہ جانے کہاں۔ ہاں میں نے بھی ایسی بہت سی جگھوں پر ناشتا کیا ہے، دنیا کے مختلف ملکوں میں، مختلف ہوٹلوں میں۔ لیکن اگر کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھے تو میں کہوں گا کہ، تیس جنوری دوہزار دس کو، نجف اشرف میں، صبح آٹھ یا نو بجے، امام علی علیہ السلام کے حرم کے سامنے۔ ہاں شاید عجیب محسوس ہو، لیکن حقیقت ہے۔ نہ کوئی بہت عمدہ ریسٹورینٹ تھا، نہ کوئی بیٹھنے کی بہت اچھی جگہ تھی۔ ہمارے ایک ساتھی نے پانچ عدد صمون خریدیں، ایک پنیر کا ڈبہ لیا، اور چائے۔ بیٹھنے کی جگہ تو نہیں تھی، اس لیے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر ہم نے ناشتہ کیا۔ ارے جناب کیا ناشتا تھا، پچھلی زیارت کی یاد تازہ ہو گئی، اتفاق سے اس سے پہلے بھی جب نجف آیا تھا، تو پہلے دن یہی ناشتا، تقریبا اسی جگہ کیا تھا۔ کیا لطف ہے بارگاہ علوی کی فضا میں۔ خدایا ترا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ سعادت ہمیں نصیب ہوئی۔ خدا یہ سعادت سب کو نصیب کرے ان شاء اللہ۔
ہم مزید دو دن نجف میں رہے اور منگل کو کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیئے سال میں جمعراتوں کے علاوہ تین دن مخصوص ہیں، عرفہ، عاشورا اور اربعین۔ الحمد للہ پہلے دو موقعوں پر تو زیارت نصیب ہو چکی تھی۔اربعین پر یہ میری پہلی زیارت تھی۔ ان ایام میں، اکثر لوگ، پیدل کربلا کی طرف جاتے ہیں۔ امام علیہ السلام کی زیارت کرنے۔ ہمارا بھی یہی ارادہ تھا، لیکن فرصت کم تھی۔ اس لیے نجف سے بیس کلومیٹر کے فاصلے تک، بسوں پر گئے۔ وہاں سے پیدل کربلا کی طرف گئے۔ پہلے تو جب ہم نے دیکھا کہ سب پیدل ہیں اور ہم سوار، بڑی شرم محسوس کی۔ اس سے زیادہ مجھے شرم اس وقت آئی۔ جب پیدل چل رہا تھا اور دوسروں کا اشتیاق اور خلوص دیکھ رہا تھا۔ لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے پیدل آرہے تھے۔ نہ کوئی سن کی حد تھی، نہ صحت کی۔  کوئی ننگے پیر، کوئی جوتوں کے ساتھ، بعض کے تو پیر زخمی ہوگئے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جو چھڑی لےکر چل رہے تھے۔ اس عشق میں ہمارے رقیب بہت زیادہ ہیں، اور یہ رقابت نہایت شیرین ہے۔
اس سے پہلے جب چودہ سوپچیس میں ، کربلا آیا تھا۔ اسی راستے سے گذرا تھا۔ اس وقت یہ جگہ بالکل سنسان تھی، اور یہاں کوئی عمارت نہیں تھی۔ لیکن اس دفعہ، نجف سے کربلا تک، کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ سڑک کے داہنی طرف، مواکب اور حسینیے بنے ہوئے تھے۔ ان مواکب میں، زائروں کے لیے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں۔ چائے، پانی، شربت، قہوہ، کافی،دودھ، کھانا، مفت ٹیلی فون، مساژ اور۔۔۔ غرض یہ کہ تقریبا ہر ضروری سہولیت میسر تھی۔ جو لوگ آرام کرنے بیٹھتے تھے، ان  کے پیر دبائے جاتے تھے، مرہم پٹی کی جاتی، معالجہ کیا جاتا۔ اب اگر وہاں کا سارا حال لکھنا ہو تو بہت کچھ لکھنا ہوگا۔
تین دن اور دوراتوں کے بعد، ہم بارگاہ معشوق میں داخل ہوئے۔ کربلا کی زمین پر قدم رکھے۔ ہمارے ساتھیوں کا کیا حال تھا، جو ابھی تک کود کو روکے ہوئے تھے، ان کی آنکھوں سے بھی عشق شوق جاری ہوگئے۔ دور سے شہنشاہ وفا کی بارگاہ نظر آئی، بارگاہ الہی میں سجدہ شکر بجا لانے لگے، کہ میرے رب ترا شکر کہ اتنی بڑی سعادت جس کی نہ جانے کتنون کو تمنا ہے، ہمیں نصیب فرمائی۔  سجدہ کناں بارگاہ عشق میں داخل ہوئے۔ کربلا میں بے انتھا رش تھا، ہر طرف زوار ، ماتمی جلوس اور کھانا پکاتے لوگ نظر آتے تھے۔ چلنا مشکل تھا۔ بڑی مشکل سے اپنی ہوٹل تک پہنچے، سامان رکھا، نھائے دھوئے، نماز پڑھی، اور امام حسین ع کے حرم کی جانب گئے۔ شب اربعین تھی، زیارت اربعین کی۔ الحمد للہ بہت اچھی طرح زیارت کی۔ جب ہم کربلا پہنچے تو تھکن  کے مارے نڈھال ہونے والے تھے، لیکن شوق زیار ت نے ہماری ساری تھکن دور کردی۔ سفر کی ساری سختی بھول گئے، کاش اس سے زیادہ سختی جھیلی ہوتی، اس زیارت کی ارزش اس سے کہیں زیادہ ہے۔کربلا کا ماحول بڑا عجیب ہے،میرا تو دل چاہتا ہے کہ وہیں جا کر رہوں، نہیں معلوم کیا بات ہے کربلا کی فضا میں۔ نہیں معلوم اور لوگوں کوبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہیں،  مجھے یہاں علم، عشق، آزادگی، شرافت، انسانیت، نجابت، عظمت، وفا، اسلام، فداکاری، شہادت، مختصر یہ کہ حسین ع کی بو آتی ہے۔ اگر یہ سب لوگ جو یہاں آتے ہیں، اس کو احساس کر لیں، تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے سامنے کسی کی سر اٹھانے کی ہمت نہ رہے گی۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ہم الفاظ و ظواہر میں مگن ہیں، اصل اور حقیقت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ ظواہر بھی زندہ رکھیں جائیں، ضرور ایک دن ایک ایسی نسل ہماری آئے گی جو ظواہر سے اگے بڑھ کر، اصل اور حقیقت کو زندہ کرے گی۔ اس کی ابتدا ہمیں کو کرنا ہوگی، پہلے خود اس حقیقت کو پہچانیں۔ ضرور وہ وقت آئے گا، اور وہ  قریب ہے۔
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
 ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

حسین ع کا پیغام ہر رنگ و نسل کے لیے ہے، یہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی حدود انسانیت سے بھی بالا تر ہیں۔ کاش ہم اس پیغام کی عظمت کو جان سکیں اور اس پر گامزن ہونے کی کوشش کریں۔ ان شاء اللہ
ہم مزید دو دن کربلا میں رہے، روز کا معمول تھا کہ کئی بار زیارت کرنے جاتے تھے۔ حرم امام حسین ع کافی تبدیل ہوگیا ہے، دیواروں کے پتھر بدلے جارہے ہیں، صحن کو مسقف کر  دیا ہے۔ حضرت عباس کے حرم میں بھی کام جاری ہے۔ بین الحرمین کو بھی چاروں طرف سے بند کردیا ہے، چند دروازے ہیں جن پر ہر آنے والے کی تلاشی لی جاتی ہے۔ حرم میں موبائل، کیمرہ، بیگ لے جانا منع ہے۔ امنیت برقرار رکھنے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔ کربلا میں تو شدید سکیورٹی تھی، ہمارا ہوٹل حرم سے تقریبا آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔  ہمارے ہوٹل سے حرم تک پانچ چیک پوسٹیں تھیں، جن پر فوجی کھڑے تھے اور سب کی تلاشی لیتے تھے، نجف میں بھی کچھ ایسا ہی انتظام تھا۔
یہ تین دن کربلا میں بہت جلدی گذر گئے۔ آخری دن حرم امام حسین ع میں ہمیں ناشتا دیا گیا۔ اربعین کے دو دن بعد کربلاسے نکلنا تھا، نجف اور پھر واپس۔ بہت کوشش کی کہ کسی صورت زیادہ رک جائیں، لیکن نہ ہوسکا۔ آخری زیارت بہت مشکل تھی، کربلا سے جانے کا تصور بھی پریشان کن تھا۔ حرم امام حسین ع گیا، عرض کیا، کہ جا تو رہا ہوں لیکن دل نہیں مان رہا، جسم کو جانا پڑے گا، مگر دل یہاں مہمان ہے۔
اتوار کو کربلا سے نکلنے لگے، ہمارے ساتھ آسمان بھی رو رہا تھا۔ کسی کا جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا، مگر کیا کرتے۔ ہمارا حال کیا تھا، یہ سوچیں، کیا حال ہوگا اس مچھلی کا جس کو آپ پانی سے الگ کر رہے ہوں ۔۔۔۔۔ ارے ایسا نہیں کیجیے گا ۔۔۔۔۔ مر جائے گی ۔۔۔۔۔

والحمد للہ العلی
سترہ ربیع الثانی ۱۴۳۱ بعد از ہجرت نبوی ص

2010/03/27

ایک قطعہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

آگئے ہم کربلا میں دل کو اپنے چھوڑ کر
مالک و مقصود سے پھر جاں کا رشتہ جوڑ کر
کی دعا ہو موت اپنی مثل ابن مرتضی
چھوڑ دیں دنیا مگر ظالم کی گردن توڑ کر

فاضل, آی فون