بسم اللہ الرحمن الرحیم
کچھ لوگ ہوتے ہیں کہ جب اپنی قوم میں کسی خامی یا پستی کا احساس کرتے ہیں، قومیت بدلنے کی جگہ، قوم کو بدلنے کہ کوشش کرتے ہیں۔ اپنی زندگی میں ہزاروں جتن کرتے ہیں تاکہ ان کی قوم صحیح راستے پر آجائے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جب اپنا کام پورا کرتے ہیں اور دنیا ان کو پہچانتی ہے، تب بجائے اس کہ کہ یہ کسی قوم میں شامل ہونے کی کوشش کریں، قومیں ان کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہر قوم یہ کہتی ہے کہ یہ تو ہم میں سے تھے۔
کچھ اسی طرح کی ایک شخصیت آج سے ۱۳۳ سال پہلے، ۹ نومبر کو پیدا ہوئی۔ والدین نے تو محمد اقبال نام رکھا۔ لیکن دنیا نے نہ جانے کتنے القاب سے نوازا، علامہ، ڈاکٹر، مولانا، سر، حکیم الامت، شاعر مشرق، فیلسوف شرق ۔۔۔ اس کے بوجود خود یہ کہہ گئے:
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
آج تک قومیں یہ کہہ رہی ہیں، اقبال ہمارا تھا۔ پاکستان، ہندوستان، انگلستان، ایران اور نہ جانے کون کون اقبال کو اپنا مانتے ہیں، کوئی پیدائش کی وجہ سے تو کوئی زبان کی وجہ سے اور کوئی سلطنت کی وجہ سے۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ واقعا اقبال کس قوم کا ہے۔ کہنے کو تو ہم یہی کہتے ہیں کہ اقبال نے پاکستان کا تصور پیش کیا، تو پاکستانی ہے۔ لیکن کیا حقیقت میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہی پاکستان ہے جو اقبال نے سوچا تھا۔ کیا صرف یہ کہنے سے کہ پاکستانی تھا، مزار پر پھول چڑھانے سے، پاکستان کا پرچم لگانے سے۔ اقبال کو پاکستانی شہریت دی جاسکتی ہے؟
اقبال ہمارا ہے۔ یہ ہم اسی وقت کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم اقبال کو اپنے کردار سے پاکستانی بنائیں۔ اگر اقبال پاکستانی تھا۔ تو ہر پاکستانی کو ایک اقبال ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہر پاکستانی علم کی اس چوٹی پر پہنچے کہ جس پر اقبال تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ اونچائی پر، بقول حضرت اقبال، وہاں تک کہ، "خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"۔ تب ہم فخر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقبال پاکستانی ہے۔ ورنہ خدا نخواستہ ہمیں وہ دن بھی دیکھنا پڑے کہ جب اقبال جیسی شخصیتوں کو ہم سے دوسری قومیں چھین لیں گی۔ خدا وہ دن نہ لائے۔ آمین
خیر یہ تو بس ایسے ہی لکھ دیا۔ اصل میں تو علامہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے، ان کی ایک غزل پیش کرنا چاہتا تھا۔
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تو نہین جہاں کے لیے
یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے
وہ کار و خس کے لیے ہے، یہ نیستاں کے لیے
مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ چمن
نہ سیر گل کے لیے ہے، نہ آشیاں کے لیے
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک
ترا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لیے
نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
ذرا سی بات تھی، اندیشہ عجم نے اسے
بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لیے
مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرئیل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لیے
آئیں مل کر اقبال کو حقیقتا پاکستانی بنائیں
ان شاء اللہ
نو، نومبر، دوہزار دس عیسوی


